لاکھ[1]

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - سو ہزار، ہندسوں میں 100000۔ "مامون بہت خوش ہوا، دس لاکھ درہم انعام دیے"۔      ( تاریخ الحکما (ترجمہ)، ٢١٠ ) ٢ - بکثرت، سینکڑوں، ہزاروں، بے شمار، ان گنت۔  جیون دھرتی اب تک پیاسی بادل گزرے لاکھ جس کی جھولی کھول کر دیکھوں سپنوں کی ہے راکھ      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، یکم جنوری، ٣ ) ١ - کتنا ہی، ہرچند، بہتیرا۔ "لاکھ افلاس تھا مگر غالیچہ نہیں، دری نہیں چاندنی نہیں . کچھ تو دالان میں بچھ جاتا"۔      ( ١٩٠٧ء، مخزن، اپریل، ٤٠ )

اشتقاق

پراکرت سے اسم جامد ہے اردو میں ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سو ہزار، ہندسوں میں 100000۔ "مامون بہت خوش ہوا، دس لاکھ درہم انعام دیے"۔      ( تاریخ الحکما (ترجمہ)، ٢١٠ ) ١ - کتنا ہی، ہرچند، بہتیرا۔ "لاکھ افلاس تھا مگر غالیچہ نہیں، دری نہیں چاندنی نہیں . کچھ تو دالان میں بچھ جاتا"۔      ( ١٩٠٧ء، مخزن، اپریل، ٤٠ )